١١٠- خواب جانو

 

 

یہ جھوٹی نگری یہ جھوٹا گلشن یہاں سدا آشیاں نہیں ہے

اے عقل والو ذرا سمبھلو یہاں پہ جو ہے وہاں نہیں ہے

 

بچا نہیں ہے کوئی جہاں میں مصبتیں ہیں سبھی کو گھیری

نہیں ہے ایسی زمیں کوئی بتا کہاں آسماں نہیں ہے

 

کوئی تھے اس میں محل بناکر گزارے دن کوئی جنگلوں میں

یہ سارے مرکر گئے جہاں سے کسی کا اِن میں نشاں نہیں ہے

 

یہاں کے جینے کو خواب جانو میرے کہے کو بُرا نہ مَانو

کسی کو قائم نہیں یہ نگری کسی کا قائم جہاں نہیں ہے

 

کوئی بھی گلشن نہیں ہے ایسا کہ جس میں ہر دم بہار ہوگی

بہارِ گلشن بھی کہہ رہی ہے بت بتاہی کہاں نہیں ہے

 

اُمید صدیوں کی کرنے والو تمہیں تو کل کی خبر نہیں ہے

جو پالتا ہے یہ کل جہاں کو اسی کا کوئی مکاں نہیں ہے

 

نہ ختم ہوگی یہ تا قیامت داراز بیحد دراز ہے یہ

ازل سے داور کہو ابد تک حقیقت اسکی بیںاں نہیں ہے

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔