اک شمع سراپا کے پروانے ہزاروں ہیں!
اک حسن مجسم کے دیوانے ہزاروں ہیں!!
عنوان ضروری ہے ہر اک کہانی کا!
اس خاک کے پتلے میں افسانے ہزاروں ہیں!!
دنیا کے گلستاں میں غنچے بھی ہیں کلیا بھی!
اور ہستی آدم میں ویرانے ہزاروں ہیں!!
منزل کی کسیے پروا جب چائیں گے دم لیں گے!
صحراۓ تمنا میں کاشانے ہزاروں ہیں!!
گیسو کو نچوڑے تو میخانے ہی بن جاۓ!
ساقی تری نظروں میں پیمانے ہزاروں ہیں!!
نادر سا کوئی تحفہ لیجائیں گے مرشد کو!
یوں اپنی نگاہ ہوں میں ڈر دانے ہزاروں ہیں!!
زاہد کے لئے لیکن بس ایک ہی کعبہ ہے!
اپنے تولئے داور بتخا نے ہزاروں ہیں!!