گزری ہے کیسے رات سَحر دیکھ رہی ہے
کانوں نے جو سُنا تھا نظر دیکھ رہی ہے
فریَاد ہو ایسی کہ وہ منظور نظر ہو
تاثیر دُعاؤں کا اثر دیکھ رہی ہے
ایک خوابِ جنوں اور ہے اک خوابِ حقِیقت
تعبیر تو دونوں کی مَگر دیکھ رہی ہے
مظلوم پہ ناحق کبھی تضویک نہ کرنا
آلا تو خُدائی کا اَمر دیکھ رہی ہے
بُزدل کی دلیروں سے بہت دور ہے منزل
ہمت تو وہ آہنی جگر دیکھ رہی ہے
سجدے کا مزہ جب ہے کوئی سامنے ہو تب
قدرت تو یہ سجدوں کا سفر دیکھ رہی ہے
داور کا سُخن اہلِ سُخن کو ہے کرامت
اِن سَب کی نظر میرا ہُنر دیکھ رہی ہے