اک بار ہوئی ہے جو خطا ہم نہیں کرتے!
بھولے سے کبھی لغزش آدم نہیں کرتے!!
ہم شیخ و برہمن کو پہچان سکیں گے!
پینے پہ آجایں تو پھر کم نہیں کرتے!!
راتوں کے اندھیرے میں جلاتے ہی رہیں گے!
ہم دل کے چراغوں کو تو مدھم نہیں کرتے!!
بہتے ہیں تو بہنےدو ہمارے ہیں یہ آنسو!
دامن پہ کبھی شعلوں کو شبنم نہیں کرتے!!
دیوانوں کی یہ رسم اٹھائی ہے ہمیں نے!
بوسیدہ گریبان کو پرچم نہیں کرتے!!
توہین نہ ہو جاۓ سر بزم ہماری!
ہم آنکھوں کو اپنی کبھی پرنم نہیں کرتے!!
مرشد میرے زندہ ہے فقط پردہ ہے داور!
اس واسطے ہم زندوں کا ماتم نہیں کرتے!!