١٠٧- عِرفَان تجھے کیا معلوم

 

 

خود کی تجھکو نہیں پہچان تجھے کیا معلوم

تو ہے نادان کا نادان تجھے کیا معلوم

 

جَان لے ظاہر و باطن میں ہے مطلب سارا

کیونکہ تُو ایسے ہے انجان تجھے کیا معلوم

 

ب سے بنیادِ بشر س سے سیرّ سُبحان

دو ہی باتوں میں ہے عِرفان تجھے کیا معلوم

 

دیر و کعبہ میں خدا کو تو کہاں پائے گا

وہ تو دِل ہی میں ہے مہمان تجھے کیا معلوم

 

روح مُردہ ہے تیری دل تیرا مردہ ہے

کس پہ قدرت ہے مہربان تجھے کیا معلوم

 

یہ جو دُنیا ہے سمجھ لے کہ حسیں دھوکہ ہے

اس میں جو پھس گیا نادان تجھے کیا معلوم

 

زاہدہ تو نہ سِکھا آکے سَبق داور کو

وہ ہے عِرفَان کا سُلطان تجھے کیا معلوم

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔