دنیا اسی کی ہوتی ہے آہ رسا کے بعد!
منزل بقا کی ملتی ہے اسکو فنا کے بعد!!
دیکھے تو کوئی اپنی یہ معراج بندگی!
مرشد کو یاد کرتے ہے اپنے خدا کے بعد!!
نظریں ملا کے دل میں سماجایۓ حضور!
پھر کوئی مدعا نہیں اس مدعا کے بعد!!
یہ سوچ کر جھکالئے اپنی جبین شوق!
کعبہ نہیں ہے کوئی تیرے نقش پاکے بعد!!
بن دیکھے تو سجود میں رہتا ہے زاہدا!
کہتا ہے خود کو پارسا اتنی ریا کے بعد!!
بس اک نظر پہ ہوگئے قرباں ہزاروں دل!
خوبی ہے ایسی کونسی اپنی ادا کے بعد!!
داور ہم کیسے جائیں گے کعبہ کو انکے ساتھ!
حج مجھ میں ہوگیا ہے کہ میرے فنا کے بعد!!