ایک حَسین چاند ہے اور چاند سا چہرہ ہے غزل
ہر ایک انسان کی دُنیا کا اُحلا ہے غزل
زندگی اس کے بنا دیکھلو بے رنگت ہے
کیونکہ انسان کی نظروں میں شگوفہ ہے غزل
حُسن ہوتا نہ اگر عشق پریشاں ہوتا
عشق کے واسطے کیا خوب سہارا ہے غزل
پھول اور خوشبو سے ہلکا ہے تبسُّم اسکا
جس پر جل جاتا ہے پروانہ وہ شمع ہے غزل
بڑے انداز و ادا ناز سے تشکِیل ھوئی
غور سے دیکھ لو قدرت ہی کا تحفہ ہے غزل
کوئی بھی نام دو کم حسن کی ملکر ہے وہ
بے شعوروں کی نگاہوں میں تماشہ ہے غزل
صاف الفاظ میں میں ب کو بتادوں داور
جَانِ من جَانِ جگر جانِ تمنا ہے غزل