زمیں میری زماں میرا حقیقت میں جہاں میرا
نہ سمجھا آج تک کوئی ٹھکانہ ہے کہاں میرا
زمیں پر میں زمانے کے لئے پیغام لایا ہوں
سنواب غور سے کیا ہے یہ اندازِ بیاں میرا
زمیں پر میرے آنے کا کوئی ایک خاص مقصد ہے
فلک پر آزمائش تھی زمیں میرا امتحاں میرا
خُدا نے جب مجھے لاکر فرشتوں کے کیا آگے
فرشتے ہوش کھو بیٹھے سُنے جس دم بیاں میرا
نہیں معلوم تھا اِنسان کا رتبہ فرشتوں کو
خدا خود ہی کہا ان سے یہی ہے رازداں میرا
فرشتوں کو ہوا حُکمِ خُدا سجدہ کرو اس کو
ہوئے حیران اور کرتے رہے تھے وہ گُماں میرا
خدا کے رازداں کا نام ہی انسان ہے داور
خدا بولا فرشتوں سے یہی ہے انس و جاں میرا