نظر ان کی طرف ہے جو پس دیوار بیٹھے ہیں!
وہ اپنے دل میں لیکر بس ترا آزار بیٹھے ہیں!!
چلادے تیر تو اپنی نگاہ ہوں سے سر محفل!
یہاں دو چار مرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں!!
نصیحت اور پھر ہم میکشوں کی بزم میں ناصح!
ارے کمبخت ہم خود آپ ہی بیزار بیٹھے ہیں!!
ذران مست آنکھوں سے ادھر بھی دیکھ لے ساقی!
جناب شیخ بھی اب باندھ کر دستار بیٹھے ہیں!!
یہ تجلی گلستانوں پر بھلا کیا ظلم ڈھائیگی!
کہ ہم تو دیکھ کر خود حسن کی رفتار بیٹھے ہیں!!
ذرا دیکھیں تو کتنا زور ہے ظالم کے ہاتھوں میں!
کلیجہ لیکے ہم بھی ہاتھ میں تیار بیٹھے ہیں!!
اٹھا سکتی نہیں جن کی کلائی بوجھ پھولوں کا!
وہ اپنے دست نازک میں لئے تلوار بیٹھے ہیں!!
ذرا کہدو نقاب رخ اٹھا دیں آج محفل میں!
کہ اے داور یہاں کچھ طالب دیدار بیٹھے ہیں!!