١٠٢۔ دست کرم تک پہونچے

 

 

بندگی کے لئے ہم ان کے قدم تک پہونچے!

کیا ضرورت ہے جبیں کو جو حرم تک پہونچے!!

 

بے طلب ہم کو عطا کرتے ہیں مرشد اپنے!

جو ہیں مجبور وہی دست کرم تک پہونچے!!

 

کوئی آساں نہیں اس درد کا ملنا ہم کو!

کتنے پردوں کو اٹھاتے ہوۓ غم تک پہونچے!!

 

اپنا اپنا یہ طریقہ ہے عبادت کے لئے!

کوئی کعبہ میں گیا ہم تو صنم تک پہونچے!!

 

سب کو ارمان ہے اک نظر کرم ہو جاۓ!

یہ بھی کیا کم ہے کہ ہم انکے ستم تک پہونچے!!

 

خوب پڑھنے دو دیوانوں کو نمازیں اپنی!

بعد مدت کے تو ہم نقش قدم تک پہونچے!!

 

اتنا کہدیجئے داور ہوں رفیقی میں بھی!

سوچ کر فکر رسا میرے قلم تک پہونچے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔