اَرّج کرت ہے داس تمہارا نیّا لگا دو پار گروجی
مَنوا بولت جیون کرلے پر ان کرت تکرار گروجی
دّکھ ساگر میں پنچ ہے نیّا پار کرو اسے مورے سنوریا
اس کو ڈبائے نفس ہی مورا جلد کرو اُپکار گروجی
سادھو جوگی روگی ہے تورا دوار کرّت ہے تورے بیرا
تیاگ دیاہوں دُنیا ساری جانت کہ مُردار گروجی
منوا مورا بھگت ہے تورا نہ جانت ہے دین سویرا
بھگون تو میں بھگت ہوں تورا کرپا ہے درکار گروجی
توری صُورتوا من ما بست کے میں دھرت ہوں تورے چرن پر
غیر کو کا ہے گُرو میں بولوں تجھسے کِیا ہوں پیار گروجی
اور کسی کو نہ جانت ہوں جنم جنم سے تورا بھگت ہوں
کعبہ کلیسا کا ہے جاؤں کن کن میں تم یار گروجی
تورے چلن کے ساتھ چلت ہوں پیرت خاطر آہیں بھرت ہوں
پاوت داور تجھکو من ما درشن تھا درکار گروجی