عبادت اب ہماری بارہ ور ہے!
جبیں میری تمہارا سنگ در ہے!!
تری محفل میں یوں تو اور بھی ہیں!
مجھی پر کیوں نگاہ معتبر ہے!!
تری ہر بات میں ہے فتنہ سازی!
تری ہر بات زاہد بے اثر ہے!!
پشیماں ہوگئے شمس وقمر بھی!
کوئی انگڑائی لیکر بام پر ہے!!
مرا کعبہ تو میرے سامنے ہے!
ترا کعبہ بتا زاہد کدھر ہے!!
کسی کی فکر ہے دن رات مجھکو!
کسی کا تذکرہ شام و سحر ہے!!
جھکاؤں کیوں نہ میں اپنی جبیںں کو!
میرے معشوق کا داور یہ گھر ہے!!