٥٣۔ قادر آسرا دینا

 

 

نہ دولت چاہئے مجھ کو نہ حاجت سے سوا دینا!

مجھے اپنا بناۓ ہو تو قادر آسرا دینا!!

 

میں دنیا خاک پا ہوں بزم دو عالم میں اے قادر!

بنا کر اپنی قدرت سے نہ تم مجھ کو مٹا دینا!!

 

بچالو مجھ کو غم سے اب مجھے تم کیوں ستاتے ہو!

میں بیمار الم ہوں اپنے دامن کی ہوا دینا!!

 

میں اپنے تن میں قرآن کی تلاوت روز کرتا ہوں!

تہجد قضا ہوتی نہیں قادر جزا دینا!!

 

تمہارے نام کا ہی ذکر ہے ہروقت سینے میں!

نہیں آساں تمہارے نام کو قادر بھلا دینا!!

 

بھرا ہے دل میں دنیا والوں کے کینہ حسد قادر!

جو گذروں درمیاں سے ان کے سائے سے بچادینا!!

 

گذارش ہے یہی میری رفیق آقا سے اے داور!

کسی دن روبرو آکر مجھے جلوہ دکھا دینا!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔