مورے مرشد کے انگنا میں ہولی ہے!
آو آو سکھیری رنگ چولی ہے!!
آج سب کی چندریا رنگی جائے گی!
اوڑھنی آج سب کی بھی لہرائے گی!
ہر طرف دیکھو وحدت کی بولی ہے!
مورے مرشد کے انگنا میں ہولی ہے!!
فرق انتا انا کا بھی مٹ جائے گا!
ایک رنگ میں دیکھو رنگ جائے گا!
کتنی پیاری یہ آنکھ مچولی ہے!
مورے مرشد کے انگنا میں ہولی ہے!!
گنج مخفی سے باہر بھی آئے گا وہ!
کنت کنزرا کی پچکاری لاۓ گا وہ!
جسم پر اینما کی بھی چولی ہے!
مورے مرشد کے انگنا میں ہولی ہے!!
آج لولاکہ والے کی کیا شان ہے!
اج قالوبلی کا یہ اعلان ہے!
آج ظاہر و باطن کی ٹولی ہے!
مور مرشد کے انگنا میں ہولی ہے!!
لا سے آئے گا کوئی الا کی طرف!
مدعی جائے گا مدعا کی طرف!
ایک دوجے کی دیکھ ٹھٹھولی ہے!
مورے مرشد کے انگنا میں ہولی ہے!!
مست بھی آئیں گےاور قلندر یہاں!
خوب کھیلیں گے ہولی برابر یہاں!
کتنی تصویر دل میں سمولی ہے!
مورے مرشد کے انگنا میں ہولی ہے!!
گنج گوہر سے گوہر بھی آجائیں گے!
آج تشریف واحد علی لائیں گے!
راہ میں سب نے آنکھیں بچھولی ہے!
مورے مرشد کے انگنا میں ہولی ہے!!
آج دادا منور کی آمد بھی ہے!
اشتیاق آج اس دلمیں بے حد ہے!
ہوگا دیدار سب کا یہ بولی ہے!
مورے مرشد کے انگنا میں ہولی ہے!!
میرے مرشد رفیقی نگر یا ہے یہ!
کتنا پیارا ہمارا سنور یا ہے یہ!
ساتھ داور کے بچوں کی ڑولی ہے!
مورے مرشد کے انگنا میں ہولی ہے!!