٤٥۔ قدم چاہتا ہوں

 

 

نہ حورو پری نہ حشم چاہتا ہوں!

محمد کی نظر کرم چاہتا ہوں!!

 

میں ہر گام پر صرف سجدے کرونگا!

نبی کا وہ نقش قدم چاہتا ہوں!!

 

بہاتا رہوں رات دن اپنے آنسو!

میں ہر دم نبی کا غم چاہتا ہوں!!

 

میں اک خادم ہوں پیارے نبی کا!

نبی کو خدا کی قسم چاہتا ہوں!!

 

میں ہوں اک سگ آستان محمد!

بس اک ٹکڑا ہی کم سے کم چاہتاہوں!!

 

میں پلکو سے چومونگا روضہ کی جالی!

نبی جی نگاہ کرم چاہتا ہوں!!

 

جو بخشا ہےا پنے چہتوں کو تم نے!

وہی ایک تھوڑا سا غم چاہتا ہوں!!

 

یہی التجا ہے خدا سے اے داور!

لکھوں نعت الیسا قلم چاہتا ہوں!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔