ہونگے ہم سید ابرار کے آگے پیچھے!
حشر میں احمد مختار کے آگے پیچھے!!
انبیاء اولیاء ابدال قطب آئیں گے!
کملی والے میرے دل دار کے آگے پیچھے!!
حوض کوثر پہ کھڑے ہونگے محمد جسدم!
لوگ ہوجائیں گے سرکار کے آگے پیچھے!!
دید سے ہونگے نہ محروم کبھی محشر میں!
صف پہ صف ہونگے رخ یار کے آگے پیچھے!!
دوڑ کر چوم لینگے ہم پیارے نبی کی کملی!
اپنے حق کے لئے حقدار کے آگے پیچھے!!
داور حشر بھی دیکھے گا میرے داور کو!
دید باز ہونگے طلبگار کے آگے پیچھے!!