٣٦۔ احمد کا دامن

 

 

احمد کا دامن تو چوڑا کیوں!

منہ اپنے نبی سے موڑا کیوں!!

 

کیا دکھائیگا صورت اپنے نبی کو!

اٹھ جاگ ذرا تو سوتا کیوں!!

 

کیا قالوبلا کا اقرار وہاں تو!

پھر آکے یہاں تو بھولا کیوں!!

 

فی انفسکم تو کہا ہے قرآں!

تو پڑھ کے انجان بیٹھا کیوں!!

 

نحن واقرب تو حق نے کہا ہے!

پڑھ کر قرآں چوڑا کیوں!!

 

تری ہستی کیا اسکو پہچان پہلے!

پھر حق کی پہچان ہوئے نا کیوں!!

 

بے سمجھے عبادت کرتا ہے تو!

آخر وہ گناہ ہوئے ناکیوں!!

 

کر اپنی عبادت معبودی!

ظاہر کی عبادت پہ پھولا کیوں!!

 

جو اپنی عبادت حضوری آدا ہے!

منور کے وسیلے سے ہوۓ ناکیوں!!

 

ثابت کئے ہیں مجھ کو رفیق!

ان کی نہ کروں حمد و تنا کیوں!!

 

داور مجھے ذکر لازم ہے ان کا!

غیروں کو دل میں ہے لاتا کیوں!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔