٣٥۔ تقدیر ایسی ہو

 

 

اگر ہو نقش اس دل پر میرے تحریر ایسی ہو!

مدینہ جاکے دم نکلے  میری  تقدیر ایسی ہو!!

 

جب آنکھیں بندکی میں نے عجب منظر نظر آیا!

پکار اٹھی  میری  نس نس کہ بس تنویر ایسی ہو!!

 

نظر کے سامنے ہو آستانہ سرور دیں کا!

خدارا خواب کی میرے اگر تعبیر ایسی ہو!!

 

ذہن پر نقش ہو جائے محمد مصطفےا یارب!

کہ نکلے یا محمد ہر گھڑی تقریر ایسی ہو!!

 

غلام مصطفے کے نام سے سب یاد رکھیں گے!

نہیں کچھ چاہئیے مجھ کو عبث توقیر ایسی ہو!!

 

ملے اک سوکھا ٹکڑا مصطفے کے آستانے کا!

سلاطینوں سے کہدونگا کہ بس جگیر ایسی ہو!!

 

دعا کے واسطے داور ہمیشہ ہاتھ اٹھے ہیں!

اثر کیسے نہ آئے کم سے کم تاثیر ایسی ہو!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔