تصور میں کبھی میں نے مدینے کی گلی دیکھی!
دیارے مصطفا میں زندگی ہی زندگی دیکھی!!
منور ہو گیا دل آنکھوں میں اک نور بھی ایا!
زہے قسمت نگاہوں نے عجب اک روشنی دیکھی!!
قسم اللہ کی سجدوں پہ اپنے ناز ہے مجھ کو!
آرے زاہد نہ تونے آج تک یوں بندگی دیکھی!!
احد میں اور احمد میں فقط ہے میم کا پرده!
یہ دونوں اک ہی صورت ہے لیکن اجنبی دیکھی!!
لحد میں دیکھکر مجھ کو نکیروں کو ہنسی آئی!
فرشتون سے بھی تنہائی میں اسی دلگی دیکھی!!
یہ مانا روز محشر اجنبی پھر بھی اے واعظ!
ملائک حور وغلماں سے ہماری دوستی دیکھی!!
کوئی مانے نہ مانے اس جبین شوق کو داور!
محمد مصطفے اکے سنگ در پر جھومتی دیکھی!!