حیراں ہیں عرش والے بھی میرے کلام سے!
آواز دے رہا ہوں تمہیں ہر مقام سے!!
مقبول کیوں نہ ہو میری ہراک دعا ندیم!
سرکار دو جہاں کو ہے الفت غلام سے!!
تشنہ لبی کا کس لئے شکوہ کروں گا میں!
بجھتی ہے پیاس ساقی کوثر کے جامے سے!!
عشق نبی سے دل مرا معمور کیوں نہ ہو!
نسبت ہے خاص مجھ کو رسول انام سے!!
میری نظر میں گنبد حضرا سماگیا!
اب واسطہ نہیں ہے مجھے خاص و عام سے!!
کہدونگا بے خطرکہ نبی کا غلام ہوں!
کوئی کرے سوال جو اس تشنہ کام سے!!
کیا یہ کرم نہیں ہے محمد کے فیض کا!
مشہور ہوگیا ہوں جو داور کے نام سے!!