٢٦۔ احمد کا راز

 

 

احمد کا راز سننے کو کیوں نیند آتی ہے !

غفلت ہے تم کو اور مجھے شرم آتی ہے !!

 

گرسیکھنا ہے علم تو میری طرف تو آ !

حکم رسول ہے یہی اور قول ذاتی ہے !!

 

احمد کا نام سن لیا دیکھا نہیں مگر !

دیکھا ہے زاہدا نہ سمجھ میں وہ آتی ہے !!

 

تیلی کا بیل سیدھا سڑک پر نہ جائیگا !

کوئل کی کو کو کب بھلا کوے کو بھائی ہے !!

 

روتے ہوے گئے ہیں یہ دنیا سے بوعلی !

من عرف علم تک نہیں یہ شرم آتی ہے !!

 

تن میں جو تیرا یار ہے اور دوسرا کہاں !

ظاہر کی یہ سمجھ تجھے غیرت دلاتی ہے !!

 

تیرے بدن میں جان میں تیرا نشان ہے !

غفلت کا جال آنکھ پہ کیا خوب ڈالی ہے !!

 

وہم وگماں کا کفر میرے دل میں آگیا !

ملکر تو اپنے یار سے وحشت بڑھائی ہے !!

 

دیکھو علی سے مصطفے فرمائے ہیں یہ کیا !

پہچانو خودکو عمر نہ یہ خالی جاتی ہے !!

 

ظاہر میں حج ہے کعبہ تو باطن میں تیرا دل !

رومی کی بولی آج زباں پر یہ آئی ہے !!

 

دیکھو حدیث قلب ہے مومن کا عرش اللہ !

داور قلم کو روکو کہ پتھر بچھائی ہے !!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔