من عرف کے میں علم سے حلوہ بناؤنگی ۔ حلوہ بناؤنگی !
قد عرف کے مریض کو میں خود کھلاؤنگی ۔ میں خود کھلاؤنگی !!
نحن و کی جڑ کو اپنے ہی ہاتھں سے کوٹ کر !
زیتوں اور طوبی کا رس اس میں ڈلاؤنگی ۔ میں اس میں ڈلاؤنگی !!
احمد نگر سے لاؤنگی بادام پستہ میں !
چھلکا حسد و بعض کا میں خود نکالؤگی ۔ میں خود نکالؤنگی !!
ساتوں صفت کی سونٹ کو میں کوٹ چھان کر !
وحدت کی ایک ڈنڑی سے اس کو ہلاؤنگی ۔ اسکو ہلاؤنگی !!
چولھے پہ میں طریق کے رکھ دونگی دیگ کو !
عشق نبی کی آگ میں ٹھنڈا پکاؤنگی میں ٹھنڈا پکاؤنگی !!
ڈالونگی میوے میں توالف لام میم کے !
حکمت سے میں توصبر کی شکر ملاؤنگی ۔ شکر ملاؤگی !!
تیار ہوگا پک کے جو حلوہ یہ دیگ میں !
ہاتھوں سے میں مریض کو اپنے کھلا ونگی ۔ اپنے کھلا ؤنگی !!
سب کھاؤ شوق وذوق سے پرہیز ایک ہے !
بیگن جو ہے گناہ کا دل سے نکلاونگی ۔ دل سے نکالونگی !!
دن رات اور صبح کو کھانا ہے یہ دوا !
دل میں بھرا ہے کینہ اسے بھی نکلاونگی ۔ اسے بھی نکلاونگی !!
میرے رفیق علی نے یہ نسخہ دیا مجھے !
احسان کیسے ان کا میں داور بھلاونگی – داور بھلاونگی !!