١٩۔ ظاہر ہو گیا ہوں میں

 

 

ھوالاول ھوالاخر سے ظاہر ہوگیا ہوں میں !

میں اپنے آپ ہی پردہ کے باہر ہوگیا ہوں میں !!

 

دلیل اینمانے راز میرا کھول کر رکھا !

صدف میں ایک قطرہ سے وہ گوھر ہو گیا ہوں میں !!

 

شہادت کے لئے انتا انا کا راز کافی ہے !

مجسم آپ میں ہی آدم کا پیکر ہوگیا ہوں میں !!

 

یداللہ فوق ایدیھہم گواہی خود یہ میری ہے !

اسی الفاظ سے بالا و برتر ہو گیا ہوں میں !!

 

ہے آیا راس مجھ کو مخزن گنج خفی لیکن !

الانسان سری سے ظاہر ہوگیا ہوں میں !!

 

من عرف نفس ھو میں جس گھڑی گم ہوگیا تھا میں !

قد عرف رب ھو سے آپ باہر ہوگیا ہوں میں !!

 

بنایا میں نے آدم کو ہے میری داوری داور !

اسی روز ازل سے سب کا داور ہوگیا ہوں میں !!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔