محبوب کو یہ بلوا کے کہا تو اور نہیں میں اور نہیں !
اٹھ جاۓ گا فرق انتا انا تو اور نہیں میں اور نہیں !!
جس وقت گئے جبرئیل امیں نعلین کو بوسہ دیکے کہا !
سرکار خدا سے میں نے سنا تو اور نہیں میں اور نہیں !!
براق پہ بیٹھے پیارے نبی جب پہچے مقام سدرہ پر !
پردے سے یہی آتی تھی ندا تو اور نہیں میں اور نہیں !!
فرمایا خدا نے نور ہو تم معراج کی شب ہے دور ہو تم !
ہے کون یہاں دونوں کے سوا تو اور نہیں میں اور نہیں !!
میں احد اگر ہوں تم احمد ہو میم کا پردہ اٹھنا ہے !
تو مجھ میں چھپا میں تجھ میں بسا تو اور نہیں میں اور نہیں !!
جو تم ہو وہی تو میں ہی ہوں وہی تو تم ہی ہو !
یہ راز ازل ہی سے ہے کھلا تو اور نہیں میں اور نہیا !!
اک چیز جدا کب ہوتی ہے اک نور الگ کب ہوتا ہے !
معرج میں خود داور نے کہاں تو اور نہیں میں اور نہیا !!