ہاستئ آدم میں پنہاں اے خدا تو ہی تو تھا !
ہوگیا خود سے نمایاں اے خدا تو ہی تو تھا !!
غرق کرکے رکھ دیا تونے مزاج کفر کو !
نوح کی کشتی کا درماں اے خدا تو ہی تو تھا !!
کردیا تو نے عطا بینائی بھی یعقوب کو !
اشک کے قطروں میں گریاں اے خدا تو ہی تو تھا !!
کام نہ آئی زلیخا کی بھی تہمت عشق میں !
حسن یوسف چاک داماں اے خدا تو ہی تو تھا !!
آگ کی چنگاریوں نے پھول کا پہنا لباس !
تھا جو گلزار و گلستاں اے خدا تو ہی تو تھا !!
امتحاں قربانیوں سے لے لیا تو نے مگر !
جو تھا اسمعیل شاداں اے خدا تو ہی تو تھا !!
طور پر جلوہ دکھاکر کردیا بےہوش بھی !
حضرت موسئ کا ارماں اے خدا تو ہی تو تھا!!
شکل بدلا کر بلا یا پاس اپنے عیسی کو !
شکل عیسی پر مہرباں اے خدا توہی تو تھا !!
صورت احمد میں آکر چھپ گیا تو احد میں !
میم کے پردہ میں پنہاں اے خدا تو ہی تو تھا !!
مرشد داور کہے قالو بلی زیر سجود !
روز اول میں سخنداں اے خدا تو ہی تو تھا !!