١٧۔ تو ہی تو تھا

 

 

ہاستئ آدم میں پنہاں اے خدا تو ہی تو تھا !

ہوگیا خود سے نمایاں اے خدا تو ہی تو تھا !!

 

غرق کرکے رکھ دیا تونے مزاج کفر کو !

نوح کی کشتی کا درماں اے خدا تو ہی تو تھا !!

 

کردیا تو نے عطا بینائی بھی یعقوب کو !

اشک کے قطروں میں گریاں اے خدا تو ہی تو تھا !!

 

کام نہ آئی زلیخا کی بھی تہمت عشق میں !

حسن یوسف چاک داماں اے خدا تو ہی تو تھا !!

 

آگ کی چنگاریوں نے پھول کا پہنا لباس !

تھا جو گلزار و گلستاں اے خدا تو ہی تو تھا !!

 

امتحاں قربانیوں سے لے لیا تو نے مگر !

جو تھا اسمعیل شاداں اے خدا تو ہی تو تھا !!

 

طور پر جلوہ دکھاکر کردیا بےہوش بھی !

حضرت موسئ کا ارماں اے خدا تو ہی تو تھا!!

 

شکل بدلا کر بلا یا پاس اپنے عیسی کو !

شکل عیسی پر مہرباں اے خدا توہی تو تھا !!

 

صورت احمد میں آکر چھپ گیا تو احد میں !

میم کے پردہ میں پنہاں اے خدا تو ہی تو تھا !!

 

مرشد داور کہے قالو بلی زیر سجود !

روز اول میں سخنداں اے خدا تو ہی تو تھا !!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔