١٥۔ داور سے سجدہ

 

 

ملیگا تجھے گنج گوہر سے سجدہ !

رفیقی خلیفہ یہ داور سے سجدہ !!

 

ضروری ہے سجدہ میں رب سامنے ہو !

ذرا سیکھ لے تو منور سے سجدہ !!

 

قضا اک نماز اپنی ہوتی نہیں ہے !

عطا ہو گیا ہم کو دلبر سے سجدہ !!

 

جو کامل ہے مرشد وہی جانتا ہے !

کہ سرکے لئے کس کے ہے درسے سجدہ !!

 

کیا سجدہ مرشد کو کیا ہے برائی !

کہ پتھر بھی لیتا ہے پتھر سے سجدہ !!

 

کٹایا ہے سجدہ میں شبیر نے سر !

نہ کیوں مانگ لیں ہم اسی سر سے سجدہ !!

 

تو کرتا ہے سجدہ یہ سجدہ ہے کس کا !

نہ سمجھا تو جا پوچھ داور سے سجدہ !!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔