خدا خود تیرے دلمیں ناداں بسا ہے !
تو اس سے جدا وہ نہ تجھ سے جدا ہے !!
سمجھ میں سمجھ تہی تو سمجھا نہیں تھا !
جو سمجھا سمجھ سے تو دیکھا خدا ہے !!
ہیں خاموش ہم دونوں اپنی جگہ پر !
نہ میں پوچھتا ہوں نہ وہ بولتا ہے !!
نظر اس طرح مجھ کو آتا ہے دل میں !
میرے سامنے جیسے صاف آئینہ ہے !!
طلب کی نہ ہم نے کوئی چیز اس سے !
ضرورت سے ہم کو سوا دیدیا ہے !!
ریا چھوڑ کر تم کرو بندگی حق !
کہ اپنے ہی اندر خدا نہ حبدا ہے !!
فنا اور بقا جاننا چاہئے تو !
فنا ہو کے ڈھونڈو کہاں پر بقا ہے !!
بنایا جو مٹی کی مورت تو رب نے !
ونفقت فیہ من روحی کہا ہے !!
رکھو یاد یہ قول داور کا دل میں !
جدھر رخ کرو گے ادھر ہی خدا ہے !!