١٤۔ وہ بولتا ہے

 

 

خدا خود  تیرے دلمیں ناداں بسا ہے !

تو اس سے جدا وہ نہ تجھ سے جدا ہے !!

 

سمجھ میں سمجھ تہی تو سمجھا نہیں تھا !

جو سمجھا سمجھ سے تو دیکھا خدا ہے !!

 

ہیں خاموش ہم دونوں اپنی جگہ پر !

نہ میں پوچھتا ہوں نہ وہ بولتا ہے !!

 

نظر اس طرح مجھ کو آتا ہے دل میں !

 میرے سامنے جیسے صاف آئینہ ہے !!

 

طلب کی نہ ہم نے کوئی چیز اس سے !

ضرورت سے ہم کو سوا دیدیا ہے !!

 

ریا چھوڑ کر تم کرو بندگی حق !

کہ اپنے ہی اندر خدا نہ حبدا ہے !!

 

فنا اور بقا جاننا چاہئے تو !

فنا ہو کے ڈھونڈو کہاں پر بقا ہے !!

 

بنایا جو مٹی کی مورت تو رب نے !

ونفقت فیہ من روحی کہا ہے !!

 

رکھو یاد یہ قول داور کا دل میں !

جدھر رخ کرو گے ادھر ہی خدا ہے !!

 

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔