مرنے سے پہلے خود کو ذرا جان لے رے بابا !
اپنے وجود ہستی کو پہچان لے رے بابا !!
ہے کون تیرے تن میں بسا نام کیا ہے اس کا !
اس کا مکان کیسا اور کام کیا ہے اس کا !
کیا روپ اس نے دھارا ہے پیغام کیا ہے اس کا !
آغاز کس طرح کا ہے انجام کیا ہے اس کا !
مرشد سے اپنے اس کو ذرا جان لے رے بابا !
اپنے وجود ہستی کو پہچان لےرے بابا !!
پہچانتے ہو اس کو تو اس کا مکان بولو !
کرتا ہے بات تم تواس کی زبان بولو !
تم جیساوہ بھی رکھتا ہے باطن کا کان بولو !
تن میں تمہارے کس جگہ اس کا نشان بولو !
مرشد ہی یہ بتاۓ گا تو جان لےرے با با !
اپنے وجود ہستی کو پہچان لےرے با با !!
پڑھتا ہے کس کا کلمہ وہ قرآن اس کا کیا ہے !
رب کس کو مانتا ہے وہ ایمان اس کا کیا ہے !
کیا کیا غذا ہے اس کی اور پہچان اسکی کیا ہے !
وہ کس کی بندگی میں ہے رحمان اس کا کیا ہے !
مرشد سے گنج مخفی ذرا جان لےرے بابا !
اپنے وجود ہستی کو پہچان لےرے بابا !!
اس کا سجود کس کو ہے اس کا قیام کیسا !
مسجد ہے کس نمونہ کی اس کا امام کیسا !
اس کا وظیفہ کونسا اس کا کلام کیسا !
منہ پھیرتا ہے کس کی طرف اور سلام کیسا !
اس کی نماز پیر سے تو جان لےرے با با !
اپنے وجود ہستی کو پہچان لےرے با با !!
وہ کون اور کیا ہے اسے جان کر ہیں بیٹھے !
کیا روپ اور شکل ہے پہچان کر ہیں بیٹھے !
ہم اپنے تن میں اس کو مہمان کر ہیں بیٹھے !
اس کے پجاری ہی ہمیں بھگوان بنکر بیٹے !
داور علی سے تو بھی ذرا جان لےرے بابا !
اپنے وجود ہستی کو پہچان لےرے با با !!
(میرے پیرو مرشد بڑی شان والے
وہ مردہ دلوں میں بھی ہیں جان ڈالے)