خدایا اتنی ہمت دے ہیں تو اس زمانے میں !
قدم نہ ڈگمگا یئں یہ کسی کے آزمانے میں !!
تڑپ جاتا ہے سینہ جب ترا اقرار ہوتا ہے !
نکل جائے ہمار ادم حقیقت کے ترانے میں !!
کوئی سمجھا نہیں رتبہ ترا ابتک کہ تو کیا ہے !
بہت سے عاشقوں کو تول ڈال تو زمانے میں!!
میں وہ موسئ نہیں جو ہوش کھو بیٹھونگا جلووں سے !
میں ہوں دیدار کا طالب تیرے اس کار خانے میں !!
کہاں جائیں کدھر جائیں نہں ہے دوسری چوکھٹ !
نہیں ہے اور کوئی در بہت ڈھونڈا زمانے میں !!
ہزاروں رنج و غم سے دور ہو جاتا ایک پل میں !
بڑی تسکین ہو جاتی ہے تیرے مسکرا نے میں !!
کرم تیارا اگر ہوجائے میں سرشار ہو جاؤں !
ہے داور طالب دیدار یارب اس زمانے میں !