پڑھ زباں سے کلمہ طیب زاہداں غافل ہوئے
دل سے کلمہ پڑھکے یارو عارفاں عاقل ہوئے
ظاہری کر کے عبادت زہراں کرتے ہیں ناز
باطنی کر کے عبادت عاشقاں کامل ہوئے
خواہشِ جنت کو یاروں زاہداں پڑھتے نماز
بے ریا کر کے عبادت عارفان واصل ہوئے
دیداور دیدار سے زاہد یہاں محروم ہے
عارفاں اور عاشقاں دیدار میں شامل ہوئے
عارفوں کو یاد رہتا ہے سدا قالو بلٰی
اُلفتِ دنیا میں پھنس کر زاہداں غافل ہوئے
مَن عَرف کی سیر کر کے عاشقاں میں کامیاب
واعظاں جھگڑے میں پڑ کر آج کل غافل ہوئے
نا سمجھ لوگوں سے گوہر ہیں ہمیشہ دُور دُور
قرب حق جو پالۓ ہیں حق سے وہ واصل ہوئے