ہماری بے بسی پر کیوں بھلا تقدیر روتی ہے
گلے کو کاٹ کر اپنے یہ کیوں شمشیر روتی ہے
ہمارے ہم نہیں اب یار شامل ہوگیا ہم میں
حقیقت رنگ لاتے دیکھ کر تعبیر روتی ہے
غموں کے آشیانوں میں خطاؤں سے بچے ہم ہیں
ہماری پارسائی دیکھ کر تقصیر روتی ہے
علاج عشق کے خاطر مسیحا سے بھی مل آئے
دوا کچھ رنگ نہ لائی تو اب تاثیر روتی ہے
کہیں بھی گھر نہیں ملتا عجب ہوں بے سروساماں
اے رحمت کچھ کرم فرما تیری جاگیر روتی ہے
تمنا رنگ لائی تھی ہوا دیدار سجدے میں
خدا کو دیکھر کیوں اب میری تصویر روتی ہے
محبت ہی محبت میں فنا سرور ہوا آخر
یہ اپنی داستاں رکھتے ہوئے تحریر روتی ہے