یا رَسُول اللہ مجھکو شوق ہے دیدار کا
ہو عِنایتِ دید مجھ کو آپ کے رُخسار کا
چشمِ گریاں دِل ہے نادِم یا محمد مصطفے
دم لبوں پر آگیا ہے اب تیرے بیمار کا
روز و شب دِکھلادے مجھکو دید اپنی دم بہ دم
سُن لو یہ فریاد میری بنده لاچَار کا
یَا نَبیِ جی آپ کے میں دید کا مُشتاق ہوں
چہرہ اب دکھلا تو مجھکو جلوۂ انوار کا
مُرغِ بِسمِل کا تڑپتا ہوں جُدائی میں سَدا
دیکھنے دیدار ھَردم سَیّد ابرار کا
ہند سے گوہر کو یثرب میں بُلالو یا نبی
ہے تمنّا دِل میں میرے آپ کی دیدار کا