اپنارب تویہاں بے پردا ہے !
ہم نے باطن کی آنکھوں سے دکھا ہے !!
وہ تو ہر وقت اپنی نگاہوں میں ہے !
ذرہ ذرہ میں موجود راہوں میں ہے !
تو ہر ایک نفس کے پناہوں میں ہے !
طور سیناکی وه جلوه گاہوں میں ہے !
روبرو ہر گھڑی اس کا چھرا ہے !!
اپنا رب تو یہاں بے پردا ہے !!
ہے گواہی میں قرآں تو دیکھ لے !
دلمیں تیرے جو ہے جستجو دیکھ لے !
ہوگی پوری تری آرزو دیکھ لے !
سوچتا کیا ہے تو روبرو دیکھے لے !
ہرطرف بس اسی کا چہیرا ہے !!
اپنارب تو یہاں بے پردا ہے !!
شمس تبریز نے بھی ہے دکھی اسے !
صوفی سرمد نے کالم میں پکڑا اسے !
دار پر چڑھکے منصور پایا اسے !
سب نے ملکر بنایا تماشااسے !
پارسا ہو کے پھر بھی تو رسوا ہے !!
اپنارب تو یہاں بے پرداہے!!
اس نے انساں کو سب کچھ کیا عطا !
جسم انساں میں رکھا ہے اپنا پتا !
ہم نہ ڈھوڈیں تو یہ ہے ہماری خطا !
اپنی نظروں سے ہر گز نہیں لاپتا !
کون کہتا مقام اس کا سدرا ہے !!
اپنا رب تو یہاں بے پردا ہے !!
میں رفیقی گلستاں کا اک پھول ہوں !
خاک پائے منور کی میں دھول ہوں !
گنج گوھر کے رازوں میں مشغول ہوں !
غوث کے میں غلاموں میں مقبول ہوں !
سروری کا تو داور یہ صدقہ ہے !!
اپنارب تو یہاں بے پردا ہے۔