نہ جانے کیوں لڑکپن میں حسینوں پر شباب آیا
کہ عَاشِق کے لئے ہاتھوں میں دل خانہ خراب آیا
تَلّی کب تلک دینے بھلا ہم اپنے اس دل کو
نہ وہ آئے نہ خط آیا نہ اب تک کچھ جواب آیا
کوئی محروم تھا دیدار سے لیکن یہ قسمت ہے
تمہاری انجُمن سے اُٹھ کے میں تو کامیاب آیا
اندھیرا ہی اندھیرا تھا میری وِایران محفل میں
وہ دیکھو آج بزمِ ناز میں اک ماہ تاب آیا
نہ آئیں گے تیری باتوں میں ہر گز ہم کبھی واعظ
ارے نادان تو کیوں ہاتھ میں لے کر کتاب آیا
رکھا جس وقت میں نے پائے نازک پر جبیں اپنی
تو میرے سامنے میرے گناہوں کا حساب آیا
شکایت کر رہا ہے حشر میں بھی زاہدہ رب سے
قسم اللہ کی داور بڑا خانہ خراب آیا