تماشہ دید کا مجھ کو نیا معلوم ہوتا ہے
محمد سے خُدا خود مل گیا معلوم ہوتا ہے
نگاہوں سے تیری معلوم ہوتا ہے نبی تو ہے
نبوت کے رتن کا کچھ پتہ معلوم ہوتا ہے
لپٹ بستر کو فوراً چھوڑ دو رنگی جھٹک دامن
خیال خام کو مشیوائیرا معلوم ہوتا ہے
محبت رنگ لائیگی تمہارے ساتھ ہم ہولیں
یہ الفت کا تمہارے کچھ مزا معلوم ہوتا ہے
میرے اعمال پر نازاں ہوں میں کچھ کہ نہیں سکتا
تو دیتا ہے مجھے کیا آسرا معلوم ہوتا ہے
تیری الفت میں اے آقا میری جان بھی صدقے
صِلہ اس کا تو کیا دیگا بھلا معلوم ہوتا ہے
چُھیا کر مجھ میں مجھکو دربدر کب سے پھرایا تو
جسے دیکھو تیرے در کا گدا معلوم ہوتا ہے
نظر کے سامنے ہے یا محمد تو زمانے کے
تماشہ فقِر عالم کا نیا معلوم ہوتا ہے
ہزاروں یار آیا ہوں مُنّور اس زمانے میں
مگر ہر بار مجھکو یہ نیا معلوم ہوتا ہے