دینا ہے تو اس طرح دُعا کیوں نہیں دیتے
ہر روز کی الجھن کو مِٹا کیوں نہیں دیتے
دیدار کی خاطر ہی چلے آئے ہو لیکن
جلوؤں کو نگاہوں میں بسا کیوں نہیں دیتے
میں دارِ رسن طور پہ ہرجا تمہیں ڈھونڈا
رہتے کہاں اس کا پتہ کیوں نہیں دیتے
غفلت میں پھنسا دیتا ہے یہ نفس کسی دن
اس نفس کے قطروں کو مٹا کیوں نہیں دیتے
باطن میرا ایک اعٔینہ بن جائے ہمیشہ
ظاہر کو میرے دل سے ہٹا کیوں نہیں دیتے
کب تک میں تڑپتا رہوں اس ہجر میں جانا
تم اپنے ہی دامن کی ہوا کیوں نہیں دیتے
تحریر یہی ہو تو تعویذ بنا لو
کوئی لفظ غلط ہو تو مٹا کیوں نہیں دیتے
ایک حشر مچادے نہ کسی روز یہ داور
تم میری وفاؤں کا صلہ کیوں نہیں دیتے