انّا میں جھانکر دیکھو کہ کیا کیا اسکے اندر ہے
ہمارا خالق و مالک کہاں اپنے سے باہر ہے
ہمارے دل کے اندر ہے ازل سے دلبر جانہ
کوئی باہر اسے سمجھے یقیناً وہ ہی کافر ہے
نگاہوں کے دریچوں سے وہ دل میں آگیا ہوگا
نفقتو في من رُوحی سے مطلب صاف ظاہر ہے
اسِی ہستی میں ہے لوح قلم بھی عرش و کرسی بھی
وہ خود آدمی میں پوشیدہ وحدت کا ساگر ہے
اسی ہستی میں سب کچھ دیکھتے عارف کامل
انہیں سے پوچھ لو ہستی کے اندر کیا کیا منظر ہے
مقامِ موتِ سرمد سے بھی آگے ھُو کا ہے میدان
احد احمد جسے کہتے ہیں سجدے وہ داور ہے
وجودِ آدمی میں دیکھے ھیں سینکڑوں عالم
یہ کل عالم کا آقا پوشیدہ انسان کے اندر ہے
شرف انسان کو بخش خدا نے اس لئے داور
خدا کی ساری قدرت کا تماشہ اسکے اندر