٩٢۔ عالم پناہ کا

 

 

بھولیں گے راستہ نہ تیری جلوہ گاہ کا

درسے تیرے ملا ہے یتہ سیدھی راہ کا

 

اوروں پہ تیرا لاکھ کرم ہے تو کیا ہوا

میں منتظر ہوں بزم میں تیری نگاہ کا

 

بَابِ قبول تک ہے رسائی غلام کی

تاثِیر ہے زباں میں دعاؤں کی آہ کا

 

کاندھوں پہ لیکے پھرتے ہو ہر کوچہ ہر دَیار

زاهِر تمہارے سرپہ بستر گناہ کا

 

تولا دکھا کے کہہ دیا مجھ کو الہ بھی

مطلب سمجھ میں آگیا اب لا الہ کا

 

شاہی لباس کو بھی وہ رُتبہ نہیں نصیب

جو مرتبہ ہے شیخ لباسِ سِیاہ کا

 

اعزاز میرے واسطے داور یہ کم نہیں

ادنیٰ میں اک غلام ہوں عالم پناہ کا

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔