التجا ہے مریدوں کی آق سایہ میں گیسوں کے چھپالو
ہم میں تڑپے تمہیں یاد کرکے آپ قدموں میں ہمکو بلالو
ہمکو مطلب ہے ہر پل تمہیں سے تم بنا کون ہے اب سہارا
یہ نا سوچو کہ ہم خود غرض ہیں اسطرح نہ سمجھکر کے ٹالو
ہم وفادار خادم تمہارے آزما کر ہمیں دیکھ لیجئے
ہو گئے ہم تو خادم تمہارے چاہے رکھ لو یا چاہے نکا لو
کالی کملی ہے گیسو تمہارے ہیں ہم کو کافی ہے سایہ اسی کا
گرمی حشر میں میرے آقا سائے میں اسکی ہمکو چھپا لو
آپکے عاشقوں کا بھی چرچہ سارے عالم میں کیوں نہ ہو آقا
آپ چاہے تو کیا کچھ نہ ہوگا ہمکو بھی اسکے قابل بنا لو
میرے آقا کو سارا زمانہ صرف دیکھا ہے سمجھا نہیں ہے
کیا برا تھا کہ انکا مقدر پھر بھی آقا ان سب کو بچالو
جو فرض عاشقی کا تھا داور آپ کے سامنے رکھدیا ہے
اب فرض آپکا آگیا ہے چاہے ٹا لو چاہے نبھا لو