مصیبت میں پکارونگا بچا نے آپکو خواجہ
میری بگڑی ہوئی بگڑی بنانے آپکو خواجہ
میرے خواجہ نے آکر درس بخشا دین احمد کا
تمہیں بغداد سے بھیجا سکھا نے آپکو خواج
یہاں پر آپکو بھیجا بن کر دین کا رہبر
خدا کے دین کا رستہ چلانے آپکو خواجہ
کفر کو توڑ کر اسلام کے جھنڈے کو لہرانے
وہ بخشا ہے کرامت کے خزانے آپکو خواجہ
شہنشاہ بھی فقیروں کو سدا تسلیم کرتے ھیں
شنہشاہ آئے اپنے سر جھکا نے آپکو خواج
نوازش ہم غریبوں پر کئے ہم بن گئے خادم
ہمیشہ یاد کرتے ہم دیوانے آپکو خواجہ
یہاں اسلام آئیگا نہ تھا وہم و گماں داور
کہاں بھیجا خدا ڈنکا بجانے آپکو خواجہ