یا شہہ اجمیر بس اتنا کرم فرمائیے
آپکا مجھکو بنا لو یا میرے ہو جائیے
آپ کے پیر مغاں عثمان کا تمکو واسط
چہانے والوں کو اپنے اور نہ تڑپائیے
چھے چراغوں کی تمہیں خواجہ پیا مغدار ہے
آپ میرے دل کے اندر شمع بنکر آئے
آپ کا دیوانہ دو عالم میں یوں سرشار ہو
آپ میرے رہنما ہو جانِ جاں بن جائے
آپ کی ادنی کرامت کفر و ظلمت مٹ گئی
آج پھر کوئی کرامت آپکی بتلائیے
معذرت ہے التجا ہے یہ شہہ اجمیر سے
سبکو بخشے ہیں مرادیں میری بھی برلا یئے
اوروں کی طرح میری منت نہیں خواجہ پیا
میری مِنت بس یہی ہے تم میرے ہو جائیے
آپ آلِ مصطفےٰ ہیں میں غُلام مُصطفےٰ
میرے دل کے گھر کے اندر آکے تم رہ جائیے
اے معین الدین چشتی ہے یہ داور کی مراد
تم سے ہی مانگا ہے تمکو نہ نہیں فرمائیے