میں ہوں غوث کا دیوانہ میری اُنسے زندگی ہے
معشوق ہیں وہ میرے مجھے ان سے عاشقی ہے
ہے خدا بھی انکا عاشق کیوں جہاں نہ ہو گا شیدا
وہ ولی ھیں دو جہاں کے وہ جہاں کی روشنی ہے
میرے غوث کے کرم سے مردے بھی جی اٹھے ھیں
میرے غوث وہ ولی ھیں کہ انہیں سے زندگی ہے
میرے غوث کے کرم سے ہمیں دین ہے میسر
ہمیں دین وہ سکھائے کہ انہیں سے بندگی ہے
سبھی بت کو پوجتے تھے تھا کفر میں ہِند سارا
نہ تھے ہند میں مسلماں یہ انہیں کی پیروی ہے
میرے پیر غوث اعظم خواجہ کو ہند بھیجا
میرے غوث کے فضل سے کہ یہاں دین آج بھی ہے
مِلا غوث کا وسیلہ تجھے کیا کمی ہے داور
ہے نصیب تیرا اچھا تو بڑا ہی قسمتی ہے