٧١- مُرتضیٰ کے لال نے

 

 

کربلا میں سر کٹا یا مرتضیٰ کے لال نے

کُفر و ظلمت کو مٹایا مرتضیٰ کے لال نے

 

قاتلوں کے تیغ و خنجر خود بخود شرما گئے

حق کا وہ جو ہر دکھا یا مرتضیٰ کے لال نے

 

یار بہتر دین کے اور لاکھوں تھے کُفار کے

دینِ حق پھر بھی بچایا مرتضیٰ کے لال نے

 

تا قیامت نام روشن کر دیئے اسلام کا

دین کا پرچم چڑھایا مُرتضیٰ کے لال نے‌‌

 

ناز کرتی ہے خُدائی مرتضیٰ کے لال پر

حق کے وعدے کو نبھایا مرتضیٰ کے لال نے

 

پیش کش جو تھی یزیدوں کی اُسے ٹھکرا دیا

سر نہیں اپنا جھکا یا مرتضیٰ کے لال نے

 

موت بھی بیکار داور ہے شہیدوں کیلئے

کام ایسا کر دِکھا یا مرتضیٰ کے لال نے

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔