٦٩- رُتَبَہ حُسین کا

 

 

سَارٰے جہاں میں اونچا ہے جھنڈا حُسین کا

دیکھو جہاں میں ہر جگہ چَر چَہ حُسین کا

 

اِسلام پر حُسین کا احسان عظیم ہے

قُربان حق پہ ہوگیا کُنبہ حُسین کا

 

ظُلم و ستم بَپا کیا لشکر یزید کا

پھر بھی بُلند ہی تھا ارادہ حُسین کا

 

سمجھۓ ظالموں کو بہت ابنِ مُرتضیٰ

سمجھے نہیں تو بڑھ گیا جزبہ حُسین کا

 

اُن ظالموں کا مٹ گیا نام و نشان تک

دیکھو جہاں میں آج بھی چَرچہ حُسین کا

 

ڈرتے بھی تھے یزید کے لشکر حُسین سے

لاکھوں میں ایک ہی تھا کلیجہ حُسین کا

 

جُرات کہاں تھی سامنے آنے کی اُن کے پاس

دیکھو کہ شیر جیسا تھا چہرہ حُسین کا

 

اتنا کلیجہ تھا کہاں بزدل تھے سب کے سب

وقتِ سجود سر کو ہے کاٹا حُسین کا

 

پچھتاۓ سب کے سب ہی شہادت کے بعد میں

سمجھے نہ یزیدوں نے رُتبہ حُسین کا

 

قتل حُسین کر کے سبھی مٹ گئے یزید

ہوتا رہے گا حشر تک جلسہ حُسین کا

 

کُنبے کو ختم کر دیئے اسلام کے لئے

کربل میں لٹ گیا ہے گھرا نہ حُسین کا

 

روتی ہے کربلا کی زمیں آج بھی داور

دِکھتا ہے آج بھی وہاں چہرہ حُسین کا

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔