شہرِ عَالم مُصطفےٰ اور دروازہ عَلِی
ابوطُراب انکا لقب اور ہے کیا کیا عَلِی
ہیں علی شیرِ خُدا بھی اور ہیں مشکل کُشا
ہیں علی دستِ یدالله اور وجھو اللہ علی
آپ کے فضل و کرم سے دین زندہ ہو گیا
شکریہ صد شکریہ آپکا ہے یا علی
دیکھلو مَن كُنّتُ مولا کہہ دئے ہیں مُصطفیٰ
مَیں رہا ہوں جنکا مولا اُن کے ہیں مولا علی
جو علی کے دوست ہونگے وہ ولی بن جائینگے
آپ کے دامن کو جس نے بھی یہاں تھا مَا علی
آپ کا نامِ مُبارک دِل پہ میرے نقش ہے
مَیں پیا ہوں آپ ہی کے نام کا پیالہ علی
آپ کے رُتبے کو داور جان کر پہچان کر
جان و ایماں سے ہوا ہے آپ پہ شیدا علی