ہم خیال مُصطفیٰ مرتضیٰ شیر خُدا
ہم نشینِ ہم کفو ہمسر و همنوا
مُصطفے کے ہم زباں مولا علی شیر خُدا
ہیں ہمارے مہرباں مولا علی شیر خُدا
جو جُدا سمجھا ہے انکو وہ مُسلمان ہی نہیں
ہیں سبھی کے پاسباں مولا علی شیر خدا
علی کا نام ایسا ہے کہ دیکھو اس میں کیا کیا ہے
علی کے نام میں ہے جوش ایماں اور جزبہ بھی ہے
علی کا نام سُنتے ہی مُصیبت دور ہوتی ہے
علی کا نام سنتے ہی دلوں میں جوش آتا ہے
علی کے نام سے جو بھی یہاں پہ جلتا ہے
قسم خُدا کی وہی مشکلوں میں پَلتَا ہے
علی کے نام سے نفرت یہاں جو کرتا ہے
وہ جَب بھی مَرتا ہے مشکِل سے دم نِکلتا ہے
علی کا ہے ملا دامن یہ ہمکو کیا کم ہے
علی کے نام میں پوشیدہ اسم اعظم ہے
علی سے بیر جو رکھتے ہیں ان کا حشر خراب
علی سے دُور ہوا جو اسے جہنم ہے
پیرانِ پیر کے پیر ہیں نا نا علی
چار چودہ کے مُربّی راہبر مولا علی
معراج میں بیعت کئے دست ید اللہ سے محمد بَرمَلا
تھے نقابِ کِبریا میں مُصطفےٰ مولا علی
ہیں اَمیر اَولیاء انِ سے یہاں اسلام ہے
دین کے ہیں پیشوا انِ سے یہاں اسلام ہے
وہ کئے احسان ہم پر انِ سے ہی یہ دین ہے
وہ ہمارے راہ نما آنسے یہاں اسلام ہے
مُصطفے کے نام جیسے مُرتضیٰ کا نام ہے
مُصطفے کے کام جیسا مُرتضی کا کام ہے
اور خُدا کے شکل جیسی مُرتضی کی شکل ہے
اور خُدا کے نام جیسا مرتضی کا نام ہے
میرے حیدر کا لقب شیر خُدا اور بوطُراب
حَیدرِ کرار جیسا ہو نہیں سکتا خِطاَب
لاکھ بھی بولے زمانہ میں نہ آسکو مَانونگا
ہے یقیں مجھکو عَلی ہیں کُل جہاں میں لاجواب
ایک دفعہ ایسا ہوا کہیں جارہے تھے مُرتضیٰ
ایک عورت تیل والی گِر گیا اُس کا گھڑا
تیل سَارا گِر گیا فوراً اسے پی لی زمیں
تیل واپس کاڑ کر اس کو دِیئے مشکل کُشا
نہ سمجھ پاعیں گے اسکو یہ جہاں کے سَرخراب
ہیں علی شیرِ خُدا واحد جہاں میں بَا خِطاب
تیل دے کر بولی مِٹی چھوڑدو اے میرے باپ
جب کہ جب آئی نِدا مولا عَلِی ہیں بو تُراب
بو طراب کے کیا ہیں معنے دیکھلو لیکر لُغات
یا کِسی عَالِم سے جاکر پوچھلو اس کا جواب
بو طراب کے معنے ہیں تم جان لو مِٹی کے باپ
اس لئے بولا خُدا شیر خُدا کو بوطراب
کہہ رہی تھی یہ زمیں مولا علی میرے میں آ
میں چکھاؤنگی تجھے یہ تیل لینے کا مَزا
اُسی وقت بولے علی میں تیرے نہ آؤں گا
اس لئے مِٹی میں مَدفن نہ ہوۓ شیر خُدا
مرتبہ میرے علی کا سب کی سمجھ میں نہ آئے گا
زاھدہ اندھا ازل کا دیکھنے نہ پائے گا
جو دیکھا ہے علی کو بس وہی بتلائے گا
آجا داور کے تو گھر میں تو بھی کچھ بن جائے گا