٦١- بلا لو شاه والا

 

 

میں جَاؤں تم پہ نِثار

دکھا دو مجھے دیدار

 

شیدا ہوں جب سے تمہارا تم سے مِلا ہے مجھکو اشارہ صدقے ہوا ہوں جب سے تمہارا

اے شاہِ دین اے ماہ مُبین اے میر حامی خُلدِ برین

 

دکھا دو مجھے دیدار

 

اَرمَاں ہے میں آؤں طیبہ مجھ کو بُلالو شاہِ والا ہند میں ہوں تنہا اکیلا

اے عربی ہے یہ میری تم سے یہی عرض ابھی

 

دکھا دو مجھے دیدار

 

دُوری رُلاتی ہے یہ تمہاری ہر دم ہے مجھکو یہ بے قراری آنکھوں سے ہوتا ہے خون جاری

ہے ارمان اب اس آن میری وہاں نکلے جَان

 

دکھا دو مجھے دیدار

 

مقصد کے میرے دینے والے اُمت کو اپنی چاہنے والے اللہ کے تم متوالے

پیارے نبی تم پر سبھی قربان ہیں جاں دینے ابھی

 

دکھا دو مجھے دیدار

 

اے میرے حادی اے میرے رہبر اے میرے مُرشد میرے گوہر

در پہ کھڑا سر کو جُھکا تیرا منور اے میرے شاہ

 

دکھا دو مجھے دیدار

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔