تشریف نبی ہیں لائے وہ عرشِ علی سے آئے
چھوڑ دیئے تھے حق کا رستہ آکے وہ راہ دِکھائے
بھول گئے تھے ہم سَب حق کو اپنا لئے تھے ہم نا حق کو
چھائی ہوئی تھی غفلت ہم پر آکے نبی ہیں بچائے
ہم جو کئے تھے رَب سے وعدہ آکے جہاں میں بھول گئے تھے
پھر سے ہمیں وہ ہوش میں لاکر یَادِ خُدا ہیں دلائے
وہ نہیں آتے ہم پھنس جاتے دونوں جہاں میں صدمے اٹھاتے
ہو کے مہرباں ہم پر آقا رحَمت ہیں برسائے
ہم کو مِلاد امانِ مُحمد خوف نہیں اب دِل میں حشر کا
مِل گیا جن کو ان کا وسیلہ وہ نہ کبھی گھر ائے
ہم پہ نبی کا دست کرم ہے بولو ہمیں کِسی بات کا ڈر ہے
ہم کو بچانے دونوں جہاں میں رحمتِ عَالَم آئے
داور کا ایمان نبی میں اور داور کی جَان نبی ہیں
ہم پہ ہوا احسان نبی کا دستِ کرم فرما ئے