٥٤- شیشہ تم ہو

 

 

میرے آقا میرے احمد میری شمع تم ہو

میرے ایمان کے آنگن کا اجال تم ہو

 

مجھکو درکار نہیں دیر و حرم جانے کی

میرے مرشد میرا مکہ میرا کعبہ تم ہو

 

آپ سا کوئی بھی ہمدرد زمانے میں نہیں

ہم غلاموں کا میرے آقا سہارا تم ہو

 

ساری خلقت کو بنایا ہے خدا فیکُن سے

قادر پاک کے سینے کا ارادہ تم ہو

 

میرے سینے میں جو تصویر چھپی ہے جسکی

میرے آقا اُسی تصویر کا چہرہ تم ہو

 

جو بھی آتا ہے مقابل وہ دکھا دیتا ہے

شک نہیں جس میں کبھی پاک وہ شیشہ تم ہو

 

آپ کی مرضی کے سانچے میں ڈھلا ہے داور

میری اوقات ہی کیا مجھکو ڈھلایا تم ہو

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔