کبھی اپنے در پر مجھے بھی بلانا
جبیں کیلئے ہے تیرا آستانہ
یوں ہی دور کب تک رہوں میرے آقا
دیار مَدینہ مجھے بھی دکھانا
نظر بند کی تو مَدینے میں پہونچوں
تصور نگاہوں میں آقا جمانا
تمہیں سَاقی حوضِ کوثر ہو آقا
مجھے اپنے ہاتھوں سے وحدت پلانا
ہوں مشتاقِ دیدار میں مدتوں سے
ذرا میری آنکھوں کو جلوہ دکھانا
جبینِ محبت کہی جا رہی ہے
سلامت رہے آپ کا آستانہ
یہ دوری کہاں تک کہ داور سہیں گے
نبی آپ دیدار اپنا دکھانا